Home / Politics / پڑھ سکتے ہو توپڑھو
پڑھ سکتے ہو توپڑھو

پڑھ سکتے ہو توپڑھو

اسرائیلی فوج کی غزہ پر حالیہ کاروائیوں کے نتیجے میں پاکستان میں موجود مذہبی جماعتوں کے غصے اور جگہ جگہ انہیں فلسطین کے معصوم عوام کے حق میں احتجاج کرتے دیکھ مجھے یہ بات یاد آئی کہ ان مذہبی جماعتوں میں بعض جماعتیں جنرل ضیاء الحق کو مردِ حق مرد مومن کہہ کر پکارتی ہیں۔ چونکہ پاکستانی قوم کا حافظہ بہت کمزور ہے اور ستم ظریفی بھی دیکھیے کہ  اس قوم کے  تاریخ بھی مسخ کرکے پیش کی گئی ہے۔ تو میں اپنا قومی اور مذہبی فریضہ سمجھتے ہوئے چند تلخ حقائق سے پردہ اٹھانے جارہا ہوں۔

1948ء سے شروع ہونے والی عرب جارحیت اور اسرائیل کے ہاتھوں شکست  کے نتیجے میں  تقریباً 400000 بے گھر فلسطینی افراد نے اپنے برادر اسلامی ملک اردن میں پناہ لی۔ اردن نے اپنے مسلمان عرب بھائیوں کی خدمت کچھ یوں کی کہ انہیں اپنے شہروں میں آنے سے روکے رکھا اور سرحدی صحرائی علاقوں تک محدود کردیا۔ اردنی حکومت اور فلسطینی مہاجرین کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرتے گئے۔ 1970 میں فلسطینیوں نے کئی اردنی ہوائی جہاز اغواء کرکے تباہ کردیے۔

15 ستمبر 1970 کو اردنی بادشاہ حسن عبداللہ نے ملک میں مارشل لاء نافذ کرکے فیلڈ مارشل حابس المجالی کو بے گھر فلسطینی مہاجرین کے خلاف آپریشن کا حکم دیا۔  اردنی فوج نے جرش اور اجلم کے مقام پر کئی ہزار فلسطینیوں کا قتل عام کیا۔ یاسر عرفات کے مطابق کم و بیش 25000 فلسطینی اس جنگ میں مارے گئے۔

اس جنگ میں اردنی افواج کو پاک فوج کا تعاون بھی حاصل تھا  جو وہاں اردنی افواج کی تربیت کے لئے موجود تھا۔ اردنی فوج  کے دوئم دستے کی قیادت بریگیڈئیر محمد ضیاء الحق کررہے تھے۔ بعدازاں  بریگیڈئیر محمد ضیاء الحق پاک فوج کے سربراہ اور پاکستان کے صدر بھی بنے۔  جبکہ جنگ کے خاتمے کے بعد اسرائیلی فوج کے سربراہ نے کہا کہ ” جتنے فلسطینی اسرائیل 20 سال میں نہ مار سکا اس سے زیادہ  بادشاہ حسن عبداللہ نے 11 دن میں ماردیے”۔

 وطن واپسی پر بریگیڈئیر محمد ضیاء الحق کا نام میجر جنرل نوازش نے کورٹ مارشل کے لئے تجویز کیا لیکن اس وقت کے آرمی چیف جنرل یحٰیی خان نے جنرل گل حسن کی مداخلت کے باعث بریگیڈئیر محمد ضیاء الحق کا نام خارج کرتے ہوئے  انہیں میجر جنرل کے عہدے پر فائز کردیا۔

دراصل اردن اور اسرائیل دونوں فلسطین کا حصہ تھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک یہودی ریاست ہے اور دوسری اسلامی ریاست۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ فلسطینی اپنی آبائی سرزمین پر مہاجر بن کر بھی نہ رہ سکے۔ یہ ہے اسلامی بھائی چارے کا پھل۔ رہی بات اردن کی تو وہ خود فلسطینی آزاد ریاست کا کتنا بڑا حامی ہے اس بات کا اندازہ اردنی بادشاہ حسن عبداللہ کے تاریخی بیان سے لگایا جاسکتا ہے کہ ” فلسطین اردن ہے اور اردن فلسطین، فلسطین کی علحیدہ سے کوئی حیثیت نہیں”۔

اب بتائیں اردن اور پاکستانی افواج کے ہاتھوں ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کے قتل عام کا کتنے پاکستانیوں کو علم ہے؟ مسلمان ہی مسلمان کا قاتل کیسے ہوسکتا ہے؟ میں ضیاء الحق کی چاہنے والی مذہبی جماعتوں سے پوچھتا ہوں کہ ایک طرف معصوم فلسطینیوں کے حق میں ریلی بھی نکالی جارہی ہے اور دوسری جانب ان کے قاتل کو “مرد حق مرد مومن” کہہ کر بھی پکار رہے ہو۔ آخر یہ منافقت کیسی؟

About M.Anas Rehman

M.Anas Rehman
Muhammad Anas Rehman is a copy editor in a Private News Channel and an Entrepreneur. He is working for the rights of minorities. He is engaged in lot of Youth Activities.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Captcha Captcha Reload

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

Scroll To Top